World
انگلینڈ اور ویلز میں تاریخ کا خشک ترین جولائی ریکارڈ ہونے کا خدشہ
برطانوی محکمۂ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں گزشتہ 190 برسوں میں اس سال جولائی کا مہینہ سب سے زیادہ خشک ثابت ہو سکتا ہے۔ کم بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
برطانیہ کے محکمۂ موسمیات میٹ آفس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار اور موسمیاتی جائزوں کے مطابق، انگلینڈ اور ویلز میں رواں سال جولائی کا مہینہ تاریخ کا خشک ترین مہینہ بننے کی طرف گامزن ہے۔ محکمہ موسمیات کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ اگر موجودہ موسمی حالات اسی طرح جاری رہے تو یہ گزشتہ 190 سالوں میں سب سے کم بارش والا جولائی ہوگا۔ یہ صورتحال نہ صرف قدرتی مناظر اور پودوں کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ماہرین کے نزدیک یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا بھی ایک واضح ثبوت ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی اور طویل خشک سالی کے باعث آبی ذخائر کی سطح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس پر متعلقہ ادارے گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ زراعت کے شعبے سے وابستہ افراد اور کسانوں کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ فصلوں کی بروقت آبپاشی کے لیے بارش کا نہ ہونا پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ پانی کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ اس موسمی بحران کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ بین الاقوامی موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور موسمیاتی تغیرات اس قسم کے غیر معمولی موسمی رجحانات کی بڑی وجہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔