LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کا غزہ سے جبری انخلا کی اسرائیلی دھمکی پر سخت ردعمل

News Image
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان نے غزہ کے باسیوں کو جبری بے دخلی کی دھمکی دینے پر اسرائیل کی سخت مذمت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان نے غزه کے رہائشیوں کو پتلیاں اڑانے کے معاملے پر جبری طور پر بے دخل کرنے کی اسرائیلی دھمکی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں اور جبری انخلا کے احکامات بین الاقوامی انسانی قانون اور بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اس معاملے پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ غزہ کے عوام پہلے ہی انتہائی کسمپرسی اور مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے پتلیاں اڑانے جیسے معمول کے عمل کو بنیاد بنا کر اجتماعی سزاؤں یا جبری انخلا کی دھمکیاں دینا انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کرنا یا اس قسم کی دھمکیاں دینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور فلسطینی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس پیشرفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ غزہ کے باسیوں کو بنیادی انسانی سہولیات اور تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں اس قسم کے دباؤ اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جائے۔ اقوام متحدہ کا یہ دوٹوک موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی ادارے خطے میں کسی بھی غیر قانونی اقدام کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔