Business
عالمی مارکیٹ: آب ہرمز مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی
آب ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ایران اور عمان کے مابین اہم بات چیت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر فی بیرل کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے تجارتی رس رسد کے حوالے سے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے جس کا اثر براہ راست توانائی مارکیٹ پر پڑا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کی مصنوعات کی تجارت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آب ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں فی بیرل دو ڈالر کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آب ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے تیل کی ایک بڑی مقدار دنیا بھر میں سپلائی کی جاتی ہے۔ اس گزرگاہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کشیدگی یا مذاکرات کی خبریں براہ راست عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ حالیہ مذاکرات کے مثبت اشاروں نے سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک مطمئن کیا ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تجارتی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سپلائی چین کے متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان یہ بات چیت کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور آب ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر بحال رہتی ہے تو اس سے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔ اس صورتحال کا اثر پاکستان سمیت تمام درآمد کنندہ ممالک کی معیشت پر بھی مثبت پڑے گا جو مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں۔ دوسری جانب، اوپیک (OPEC) اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیاں بھی اس صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ماہرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ توانائی کی مارکیٹ کی موجودہ لچک اس بات پر منحصر ہے کہ خطے میں سفارتی کوششیں کس حد تک بارآور ثابت ہوتی ہیں۔ اگلے چند دنوں میں ہونے والے مزید مذاکرات اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے فیصلوں سے تیل کے نرخوں کا آئندہ رخ طے پائے گا، جس پر دنیا بھر کے تجارتی اداروں اور حکومتوں کی گہری نظر ہے۔