Pakistan
پمز اسپتال اے سی دھماکہ: 14 بچوں کی شہادت پر مصطفیٰ کمال کا اظہارِ افسوس
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ایئر کنڈیشنر کے دھماکے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے چودہ شیرخوار بچوں کی ہلاکت پر سیاسی رہنماؤں نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان مصطفیٰ کمال نے اس اندوہناک واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلخراش اور المناک واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے، جہاں ایئر کنڈیشنر (اے سی) کے دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں چودہ معصوم شیرخوار بچے لقمہ اجل بن گئے۔ اس خوفناک حادثے کے بعد سیاسی حلقوں، سول سوسائٹی اور عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسپتالوں کی ناقص حفاظتی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے اس سانحے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس المناک واقعے کو انتہائی دردناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال جیسی حساس عمارت میں اس نوعیت کی غفلت ناقابلِ برداشت ہے جس نے اتنے سارے معصوم جانوں کو نگل لیا۔
مصطفیٰ کمال نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور غفلت برتنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں بالخصوص نوزائیدہ بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی اور برقی آلات کے نظام کا فوری طور پر آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دردناک حادوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔