LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا میں ڈیٹا سینٹر انرجی قوانین کی منظوری اور کوئینز لینڈ کا مؤقف

News Image
آسٹریلوی حکومت نے کوئینز لینڈ کی مخالفت کے باوجود قومی کابینہ کے اجلاس میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے قومی توانائی کے ضوابط نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں توانائی کی کھپت کو منظم کرنا اور ڈیٹا سینٹرز کے شعبے میں شفافیت لانا ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے کوئینز لینڈ کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے رواں ہفتے ہونے والے قومی کابینہ کے اجلاس میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے سخت قومی توانائی کے معیارات نافذ کرنے کا پختہ ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ اقدام روایتی اتفاق رائے کے طریقہ کار سے ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا تھا جب کوئینز لینڈ اور شمالی علاقہ جات نے ان مجوزہ قوانین پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ حکارتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اب اس معاملے پر مزید تاخیر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بالخصوص تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز کے لیے توانائی کے ضوابط یکساں ہو جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کی تپش اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر وفاقی سطح پر سخت قواعد و ضوابط کا نفاذ ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ قومی گرڈ پر دباؤ کو کم کیا جا سکے اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب کوئینز لینڈ کی حکومت کی طرف سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور صوبائی خودمختاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ توانائی کے معاملات میں وفاقی مداخلت مقامی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم وفاقی حکام کا اصرار ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد اور توانائی کے استحکام کے لیے قومی سطح پر ایک ہی پالیسی کا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔