Entertainment
مقبول گلوکارہ کی زندگی، حکمت اور موسیقی کا سفر
مقبول ترین ملک کی گلوکارہ اور نغمہ نگار اسی سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی زندگی اور فنی سفر سے جڑے یادگار جملے آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
دنیا بھر میں اپنی منفرد آواز اور دلفریب نغموں سے لاکھوں دلوں کو جیتنے والی معروف گلوکارہ اور نغمہ نگار اسی سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ ان کی پوری زندگی موسیقی کے لیے وقف رہی اور انہوں نے اپنے فن کے ذریعے معاشرے میں محبت، امید اور تلخ حقائق کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا۔ ان کے انتقال پر دنیا بھر کے مداح اور نامور فنکار شدید صدمے سے دوچار ہیں اور ان کی فنی خدمات کو بھرپور خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔
اپنی زندگی کے دوران اس عظیم فنکارہ نے کئی یادگار انٹرویوز دیے جن میں انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ پر کھل کر بات کی۔ ان کا ایک انتہائی مشہور قول کہ 'اگر آپ قوس قزح چاہتے ہیں تو آپ کو بارش کو بھی برداشت کرنا ہوگا' ان کی زندگی کے فلسبے کو بہترین انداز میں بیان کرتا ہے۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ مشکلات کے بغیر کامیابی کا کوئی تصور نہیں اور ہر مشکل انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں متعدد ایوارڈز اپنے نام کیے اور روایتی موسیقی کو ایک نئی بلندی عطا کی۔ ان کے گیتوں میں انسان کے بنیادی جذبات، خوشیاں، غم اور امید کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ناقدین کے مطابق، ان کا انداز گائیکی ایسا تھا جو سننے والے کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا تھا اور ان کی آواز کی گھن گرج صدیوں تک لوگوں کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔
اگرچہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہیں، لیکن ان کے گیت اور ان کی زندگی کے سنہری اصول ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کے مداح اور نئی نسل کے فنکار ان کے فلسفے کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کی یاد میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں ان کی فنی خدمات کو شاندار الفاظ میں یاد کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے فن اور حکمت سے روشناس ہو سکیں۔