Pakistan
پمز اسپتال میں آتشزدگی کا واقعہ: والدین کے سنگین الزامات
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد والدین نے شدید غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے وقت نرسری کا دروازہ بند تھا اور وہاں کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے ایک دلخراش آتشزدگی کے واقعے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔ اس ہولناک واقعے کے نتیجے میں جہاں ایک طرف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، وہیں دوسری طرف جاں بحق ہونے والے نوزائیدہ بچوں کے والدین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین نوعیت کی غفلت اور لاپرواہی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ بروقت اقدامات کرتی تو اتنی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکتی تھیں۔
واقعے میں اپنے نو مولود بچے سے محروم ہونے والی ایک ماں جاویرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب اسپتال کے اس حصے میں آگ لگی تو نرسری یونٹ کا دروازہ باہر سے بند تھا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اس نازک وقت میں وہاں نرسری کا کوئی بھی عملہ یا ڈاکٹر موجود نہیں تھا جو بچوں کو نکالنے میں مدد کرتا۔ والدین نے چیخ و پکار کی لیکن دروازہ وقت پر نہ کھلنے اور عملے کی غیر موجودگی کی وجہ سے صورتحال انتہائی تباہ کن ثابت ہوئی، جس سے معصوم جانیں بچ نہ سکیں۔
اس المیے کے بعد اسلام آباد اور ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کا کاتہ احتساب کیا جائے۔ ہسپتالوں جیسے حساس اداروں میں اس قسم کے حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا اور عملے کی غفلت ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس پر اعلیٰ حکام کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔