World
برنم کا جیوری ٹرائلز سے متعلق سابقہ پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ
برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ ان کا ضمیر سابقہ حکومت کے اس فیصلے کو پلٹنے کی اجازت دیتا ہے جس کے تحت جیوری ٹرائلز کو محدود کیا جا رہا تھا۔ اس اقدام کا مقصد عدائلی نظام میں عوام کے اعتماد کو بحال کرنا اور انصاف کے عمل کو مزید شفاف بنانا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سابقہ حکومت کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے اس متنازع منصوبے پر نظرثانی کریں گے جس کا مقصد انگلینڈ اور ویلز میں جیوری ٹرائلز کے دائرہ کار کو محدود کرنا تھا۔ وزیراعظم کے مطابق ان کا بنیادی جبلّی احساس یہی کہتا ہے کہ عدالتی نظام میں جیوری کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کمی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ سابق انتظامیہ کی طرف سے کچھ ایسے اقدامات تجویز کیے گئے تھے جن کے ذریعے عدالتی مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے بہانے جیوری ٹرائلز کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس فیصلے پر اس وقت بھی قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ جیوری کا نظام برطانوی انصاف کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس منصوبے پر نظرثانی کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ مشاورت کا آغاز کیا جائے گا تاکہ وکلاء، ججوں اور قانونی ماہرین کی آراء کی روشنی میں ایک منصفانہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ اس پیش رفت کو عدالتی آزادی اور عوامی حقوق کے حامیوں کی طرف سے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ روایتی عدالتی اقدار کو تحفظ حاصل رہے گا۔ حکومت کی یہ نئی سوچ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عوامی اور قانونی برادری کے خدشات کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے۔