Business
بھارت کا سمندرا منتھن منصوبہ اور توانائی کی تلاش کا روڈ میپ
بھارتی وزارت تیل نے 8.8 ارب ڈالر کے پرامید سمندرا منتھن منصوبے کے تحت سالانہ بنیادوں پر ڈرلنگ اور سیزمک سروے کا روڈ میپ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے سمندری حدود میں توانائی کے ذخائر کو تیزی سے دریافت کرنا ہے۔
بھارتی وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس نے اپنے انتہائی اہم اور مہتواکانکشی 8.8 ارب ڈالر کے منصوبے 'سمندرا منتھن' کے تحت تیل اور گیس کی تلاش کے لیے ایک جامع سالانہ روڈ میپ تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس قومی سمندری تلاش کے پروگرام کا بنیادی مقصد ملک کی سمندری حدود میں توانائی کے چھپے ہوئے ذخائر کا پتہ لگانا اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ وزارت کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس لائحہ عمل میں ڈرلنگ کے مرحلے، سیزمک سروے اور سمندر میں ڈرلنگ رجز کی تنصیب کے لیے سال بہ سال اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے بھارت کے انرجی سیکٹر میں نمایاں بہتری آئے گی اور بیرونی ممالک پر انحصار کم ہوگا۔
حالیہ برسوں میں بھارت کی توانائی کی طلب میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت نے سمندری حدود بالخصوص گہرے سمندروں میں تلاش کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 'سمندرا منتھن' یا نیشنل آف شور ایکسپلوریشن پالیسی اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت نجی اور سرکاری اداروں کو ساتھ لے کر جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے کام کیا جائے گا۔ اس روڈ میپ کے تحت آنے والے برسوں میں سمندری طاس کے مختلف حصوں میں سیزمک ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا تاکہ ممکنہ تیل اور گیس کے ذخائر کی درست نشاندہی کی جا سکے۔
منصوبے کے مالیاتی پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو 8.8 ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری ملک کی سمندری تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے۔ وزارت کے اعلیٰ حکام اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ تمام مرحلے مقررہ وقت پر مکمل ہوں تاکہ اس بات کا تخمینہ لگایا جا سکے کہ کون سا علاقہ پیداوار کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ اور حفاظتی تدابیر کو بھی اس روڈ میپ کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ سمندری حیات کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ اس نوعیت کے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے اقدامات سے نہ صرف صنعتی ترقی کو مہمیز ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
حکومت کے اس قدم کو معاشی حلقوں میں انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے طویل مدت میں توانائی کی درآمدات پر آنے والے بھاری اخراجات میں کمی لائی جا سکے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں اس سالانہ روڈ میپ کی حتمی منظوری کے بعد عملی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا، جس کے تحت مختلف بین الاقوامی اور ملکی کمپنیوں کو اس عمل میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ بھارت کا یہ قدم ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی جانب ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم ثابت ہوگا۔