Business
ڈی آر ڈی او کی روایتی میزائل ٹیکنالوجی نجی صنعت کو منتقل کرنے کی منظوری
حکومت کی جانب سے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کو تمام روایتی میزائل ٹیکنالوجی نجی صنعتوں کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے دفاعی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شرکت کو فروغ دینا اور مسابقتی بولی کے ذریعے تیاری کو بہتر بنانا ہے۔
نئی دہلی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق بھارت کی دفاعی تحقیق اور ترقی کے ادارے (ڈی آر ڈی او) کو باضابطہ طور پر یہ اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام روایتی میزائل ٹیکنالوجی ملک کی نجی صنعتوں کو منتقل کرے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد دفاعی پیداوار کے شعبے میں نجی کمپنیوں کے کردار کو بڑھانا اور ملک کو دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خود کفیل بنانا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے نجی اداروں کو جدید ترین میزائل سسٹمز کی تیاری اور تحقیق میں براہ راست حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ان میزائلوں کی تیاری کے لیے نجی فرموں کا انتخاب مکمل طور پر مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس شفاف طریقہ کار سے نہ صرف بہترین کارکردگی کی حامل کمپنیوں کا انتخاب ممکن ہوگا بلکہ دفاعی سازوسامان کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ مئی میں میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈی آر ڈی او کو اسٹریٹجک نوعیت کی حامل نہ ہونے والی ٹیکنالوجیز کو نجی شعبے کے لائسنس دینے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن پر اب عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کی دفاعی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جہاں نجی اور سرکاری ادارے مل کر کام کریں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تیزی آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے اس پالیسی کے نفاذ سے نجی سرمایہ کاری کے لیے دفاعی شعبے کے دروازے مزید کھل گئے ہیں جو مستقبل کی دفاعی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔