LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور امریکہ کی بقا کا چیلنج

News Image
مصنوعی ذہانت کے نئے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز ملک کے بجلی اور پانی کے وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں عام محنت کش خاندانوں کے روزگار اور معاشی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ہر چند ہفتوں کے بعد اربوں ڈالرز مالیت کے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا اعلان کیا جاتا ہے جن کے اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان مراکز کی بجلی کی کھپت، پانی کا استعمال اور زمین کا پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے کس تیزی سے اپنے پر پھیلا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے یہ جنات دنیا بھر میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اس شعبے میں بے پناہ سرمائے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے پاور سسٹمز اور انفراسٹرکچر پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان مستقبل کے بڑے انرجی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے جتنی توانائی درکار ہے، وہ موجودہ گرڈ سسٹمز کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دوسری جانب، اس تکنیکی انقلاب کے درمیان عام محنت کش طبقہ اور مزدور خاندان خود کو ایک بے یقینی کی کیفیت میں پاتے ہیں۔ اے آئی اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے روایتی نوکریوں کے ختم ہونے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، جس سے محنت کش طبقے کی روزی روٹی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اگرچہ ریاست اور بڑی ٹیک کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو ملکی سلامتی اور معاشی بقا کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس دوڑ میں عام انسان کہاں کھڑا ہے۔ کیا اقتصادی ترقی کا یہ ماڈل عام شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے؟ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسی ساز اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے دوران ماحولیاتی اثرات اور انسانی وسائل کے تحفظ کے درمیان ایک بہتر توازن قائم کریں۔ صرف یہی نہیں بلکہ حکومتوں کو ایسے لائحہ عمل مرتب کرنے ہوں گے جن کے ذریعے ٹیک انڈسٹری کی بے لگام ترقی کو روکا جا سکے اور محنت کش خاندانوں کو معاشی طور پر مستحکم رکھا جا سکے بصورت دیگر یہ تکنیکی انقلاب معاشرے میں پائیدار ترقی کی بجائے گہری خلیج اور طبقاتی کشمکش کا باعث بن سکتا ہے۔