LIVE
Loading Breaking News...

روس یوکرین جنگ: دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں میں جانی نقصان

News Image
روس اور یوکرین کے مابین شدید فضائی اور زمینی حملوں کا تبادلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یوکرین نے روسی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا جبکہ روس نے دنیپروپتروسک اور اوڈیسا کے قریب کارگو جہاز پر حملے کیے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازع میں شدت آتی جا رہی ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے اہم تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین جھڑپوں اور کارروائیوں کے دوران دونوں ممالک کی طرف سے جانی و مالی نقصان کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جنگی میدان میں جاری ان شدید حملوں نے دونوں ممالک کے عسکری اور معاشی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یوکرین نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت روسی سرزمین پر موجود اہم تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی ڈرونز اور میزائلوں نے روس کی مختلف آئل ریفائنریز پر کئی بار حملے کیے، جس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار اور تنصیبات کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین کی جانب سے توانائی کے شعبے کو ہدف بنانے کا مقصد روسی معیشت اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے تاکہ میدان جنگ میں برتری حاصل کی جا سکے۔ دوسری جانب روسی افواج نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے یوکرین کے مختلف شہروں پر شدید بمباری کی ہے۔ روسی میزائل حملوں کے نتیجے میں دنیپروپتروسک کا علاقہ شدید متاثر ہوا جبکہ بحیرہ اسود کے قریب اوڈیسا کی بندرگاہ کے قریب ایک کارگو جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی وجہ سے یوکرین کے اندرونی رس رسد کے نظام اور سمندری تجارت کو شدید دھچکا لگا ہے اور بندرگاہ کے اردگرد سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین نے دونوں ممالک کے درمیان جاری اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ خطے میں جاری اس لامتناہی جنگ کی وجہ سے عام شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی بحران سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔