Technology
ونڈ ٹربائن بلیڈز کی ری سائیکلنگ،ٹینیسی کمپنی کا کارنامہ
امریکہ کے شہرناکس ویل میں واقع ایک کمپنی کاربن ریورز نے پرانے ونڈ ٹربائن بلیڈز کو ری سائیکل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے حاصل ہونے والا گلاس فائبر نیا سامان بنانے کے لیے بڑی مقدار میں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے شہر ناکس ویل میں قائم ایک اختراعی کمپنی 'کاربن ریورز' نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پرانے اور ناکارہ ونڈ ٹربائن بلیڈز کو مؤثر انداز میں ری سائیکل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں گرین انرجی کے فروغ کے ساتھ ہی پرانے ونڈ ٹربائن بلیڈز کا ضائع ہونا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بنتا جا رہا تھا، جس کا حل اب اس کمپنی نے تلاش کر لیا ہے۔ کمپنی کے اس نئے اور جدید طریقہ کار کے ذریعے بلیڈز کو تلف کرنے کے روایتی مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
اس تکنیک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ کمپنی ایک خاص اور جدید حرارتی عمل کے ذریعے گلاس فائبر کو اس کے ساتھ موجود رال یعنی ریزن کے مواد سے کامیابی کے ساتھ الگ کرتی ہے۔ یہ عمل انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے تاکہ گلاس فائبر کی اصلی ساخت اور معیار کو نقصان نہ پہنچے۔ اس ری سائیکلنگ کے نتیجے میں جو گلاس فائبر حاصل ہوتا ہے وہ اپنی بہترین اور اعلی ترین پاکیزگی کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جو مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے سخت معیارپر پورا اترتا ہے۔
اس بازیاب شدہ گلاس فائبر کو نئی مصنوعات کی تیاری میں بلا جھجھک استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف خام مال کی طلب میں کمی آتی ہے بلکہ صنعتی پیداوار کے دوران کاربن کے اخراج کو بھی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سرکلر اکانومی یعنی دائروی معیشت کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کامیابی کے بعد کاربن ریورز اپنے کام کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر رہی ہے اور ایک بڑے پیداواری پلانٹ کی تعمیر پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس نئے بڑے کارخانے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد کمپنی کی ری سائیکلنگ کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، جس سے بڑے پیمانے پر صنعتی فضلے کو مفید اشیاء میں بدلا جا سکے گا۔ ماحول دوست ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس قسم کے اقدامات صنعتی شعبے کو زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی بین الاقوامی سطح پر بھی اپنائی جائے گی تاکہ ونڈ انرجی کو واقعی ایک مکمل سبز توانائی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔