AI
سام ألٹ مین کا مصنوعی ذہانت پر بڑا اعتراف اور افسوس
اوپن اے آئی کے سی ای او سام ألٹ مین نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں ماضی میں غلط موقف اختیار کیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے بیانات کی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی لوگوں کے لیے زیادہ خوفناک دکھائی دی۔
مصنوعی ذہانت کے دنیا بھر میں چرچے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے بانی ادارے اوپن اے آئی کے سربراہ سام ألٹ مین نے حال ہی میں ایک اہم اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ اے آئی کے حوالے سے ماضی میں ان کا اندازہ کچھ معاملات میں غلط ثابت ہوا ہے اور انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو عوام کے سامنے اس انداز میں پیش کیا کہ یہ ضرورت سے زیادہ خوفناک محسوس ہونے لگی۔ سام ألٹ مین کے مطابق، ابتدائی طور پر اے آئی کی طاقت اور اس کے ممکنہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے سے معاشرے میں ایک غیر ضروری خوف پیدا ہوا، جبکہ اس کا مقصد انسانی صلاحیتوں کو نکھارنا اور پیچیدہ مسائل کا حل نکالنا تھا۔ موجودہ دور میں اے آئی انڈسٹری کو کئی مالی اور تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بڑی کمپنیاں اس میدان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس کے بعد اب یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ آیا یہ رفتار اور حکمت عملی پائیدار بھی ہے یا نہیں۔ سام ألٹ مین کا یہ نیا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انڈسٹری کے رہنما اب اس ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات اور عوامی تاثر کو لے کر زیادہ سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو خوف کی علامت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اگر اسے ایک مفید اور معاون ٹیکنالوجی کے طور پر متعارف کروایا جائے، تو اس سے عام لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں اور اس کا استعمال زیادہ مثبت انداز میں ممکن ہو سکے گا۔ اوپن اے آئی کے سربراہ کی جانب سے یہ اعتراف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں صرف تکنیکی ترقی ہی نہیں بلکہ اس کا درست ابلاغ اور عوامی اعتماد بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔