Technology
اے آئی میں تین ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری، فیڈرل ریزرو لاعلم
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تین ٹریلین ڈالر کی خطیر سرمائے کی فراہمی کے ذرائع اب تک صیغہ راز میں ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین اور دیگر مالیاتی ماہرین اس بارے میں گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں جاری طوفانی ترقی نے پوری دنیا کی معیشت کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رکھی ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر اے آئی کے میدان میں تین ٹریلین ڈالر سے زائد کی خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، تاہم حیرت انگیز طور پر امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ اس زبردست مالیاتی تیزی کے پیچھے اصل فنانسرز کون لوگ ہیں۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی معیشت اور مالیاتی استحکام کے لیے ایک نیا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین اور دیگر پالیسی سازوں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت طویل مدت میں پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے اور معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، لیکن اس کے مالیاتی ذرائع کی عدم موجودگی مستقبل میں بڑے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی غیر یقینی صورتحال سے مانیٹری پالیسی کی تشکیل میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ مرکزی بینک کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کہاں سے آ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اتنی بڑی رقم کی نقل و حرکت بغیر کسی واضح نگرانی کے ہونا معاشی نظام کے لیے تشویشناک ہے۔ یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ریگولیٹری ادارے اس معاملے کی گہرائی تک جائیں اور اے آئی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے پس پردہ کارفرما طاقتوں کا سراغ لگائیں۔ اگر اس سرمائے کے ذرائع کو واضح نہ کیا گیا تو یہ تکنیکی ترقی مستقبل میں کسی بڑے مالیاتی بحران کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی معیشت بھی براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔