LIVE
Loading Breaking News...

شنگھائی روبوٹ کارنیوال: چین میں جدید ہیومنائڈ روبوٹس کی نمائش

News Image
شنگھائی میں منعقدہ ایک روبوٹ کارنیوال کے دوران ہیومنائڈ روبوٹس کی حیرت انگیز جھلکیاں دکھائی گئیں جو چین کی مصنوعی ذہانت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس نمائش میں چین کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور 'مجسّم مصنوعی ذہانت' (Embodied AI) کے تصور کو عملی شکل میں پیش کیا گیا۔
چین کے شہر شنگھائی میں حال ہی میں ایک منفرد روبوٹ کارنیوال کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر اور دنیا بھر سے آنے والے ماہرین اور شائقین کو جدید ترین ہیومنائڈ روبوٹس کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ نمائش چین کی اس وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کو محض ڈیجیٹل دنیا تک محدود رکھنے کے بجائے اسے انسانوں کی روزمرہ زندگی کے معمولات میں شامل کرنا ہے۔ کارنیوال کے دوران پیش کیے جانے والے ان روبوٹس کی صلاحیتوں نے حاضرین کو دنگ کر دیا۔ اس تقریب میں جس اہم ترین موضوع پر سب کی توجہ مرکوز رہی، وہ 'مجسّم مصنوعی ذہانت' یا Embodied AI کا تصور تھا۔ اس تصور کے تحت جدید ترین ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کو فزیکل سسٹمز یعنی روبوٹس کے جسمانی ڈھانچے میں اس طرح پیوست کیا جاتا ہے کہ وہ حقیقی دنیا کے ماحول میں انسانوں کی طرح سوچ سمجھ کر فیصلے کر سکیں اور اپنے اردگرد کے حالات کے مطابق ردعمل ظاہر کر سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانی زندگی کے کئی شعبوں میں انقلاب برپا کر دے گی۔ چین میں ہیومنائڈ روبوٹس کا یہ رجحان کوئی اتفاقی بات نہیں ہے بلکہ یہ حکومتی سطح پر بنائی جانے والی ان پالیسیوں کا تسلسل ہے جو ملک کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کا سپر پاور بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ حالیہ حکومتی دستاویزات اور صنعتی منصوبوں میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فزیکل سسٹمز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔ شنگھائی کا یہ کارنیوال اسی عزم کا عملی مظہر ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اپنے شہریوں کے لیے قابلِ رسائی بنانے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔