World
امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ اور خودمختاری کا دفاع
کینیڈا نے امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے پچاس فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ یہ تجارتی تنازع اب دونوں ممالک کے درمیان ایک وسیع تر سفارتی اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور پر شروع ہونے والا تنازع اب محض معاشی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کینیڈا کی قومی خودمختاری کے دفاع کی ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں کینیڈین حکومت نے امریکہ کی طرف سے عائد کردہ تجارتی پابندیوں اور محصولات کے جواب میں ڈالر کے مقابلے میں ڈالر کی بنیاد پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے جو کہ بعض شعبوں میں پچاس فیصد تک بلند ہیں۔ یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ کینیڈا اب مزید امریکی دباؤ یا یکطرفہ تجارتی فیصلوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس تمام صورتحال نے دونوں پڑوسی ممالک کے روایتی اور دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، کینیڈین عوام کی اکثریت بھی اب امریکی تجارتی مذاکرات میں مزید کسی بھی قسم کی لچک یا رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک جارحانه اور دوٹوک موقف کی حامی ہے۔ پبلک اوپنین اور سروے رپورٹس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کینیڈین شہریوں کی بڑی تعداد اپنی حکومت سے یہ توقع کر رہی ہے کہ وہ ملکی مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گی چاہے اس کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک طویل تجارتی جنگ ہی کیوں نہ لڑنی پڑے۔ امریکی حکام اور کینیڈین قیادت کے درمیان اس محاذ آرائی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس تجارتی تنازع کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر اس تنازع کو جلد گفت و شنید کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو اس کے دونوں ممالک کی معیشتوں پر انتہائی منفی اور دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔