Business
برطانیہ میں توانائی کی قیمتوں کی حد میں چار فیصد اضافہ
ریگولیٹر ادارے اوفسیم (Ofgem) کے اعلان کے مطابق اکتوبر سے لاکھوں گھرانوں کے لیے توانائی کے نرخوں کی حد میں چار فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے سے عام شہریوں کے ماہانہ یوٹیلیٹی بلز مزید بڑھ جائیں گے۔
برطانیہ کے توانائی کے نگران ادارے اوفسیم (Ofgem) نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے اکتوبر کے مہینے سے کروڑوں گھرانوں کے لیے توانائی کے نرخوں کی حد میں چار فیصد تک کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں عام شہریوں اور صارفین کے ماہانہ گیس اور بجلی کے بلز میں براہ راست اضافہ ہوگا، جو پہلے سے ہی مہنگائی کا شکار عوام کے لیے ایک اور بڑا مالیاتی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور معاشی دباؤ کے باعث یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سرمائی موسم کی آمد سے پہلے اس قسم کا اضافہ گھریلو اخراجات کو بری طرح متاثر کرے گا۔ بالخصوص کم آمدنی والے خاندان اور وہ افراد جو پہلے ہی توانائی کے بڑھتے ہوئے بلوں کی وجہ سے پریشان ہیں، ان کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ حکومت اور فلاحی ادارے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ توانائی کی بچت کے اقدامات پر سختی سے عمل کریں۔
دوسری جانب، اوفسیم نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں کی حد کا بنیادی مقصد صارفین کو مارکیٹ کے غیر منصفانہ اور ضرورت سے زیادہ ریٹس سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاہم، قیمتوں کی حد میں اضافے کا مطلب یہی ہے کہ مجموعی طور پر صارفین کو اب زیادہ ادائیگی کرنا ہوگی۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر اضافی اقدامات کا اعلان کرے۔