LIVE
Loading Breaking News...

اسپین کا سیوٹا بارڈر پر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ، مہاجرین کا بحران

News Image
اسپین نے مراکش کے ساتھ واقع اپنے انکلیو سیوٹا میں مہاجرین کی اچانک بڑی تعداد میں آمد کے بعد فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔ اس دوران سرحدی علاقے میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور کوششوں کے دوران کم از کم 34 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسپین کی حکومت نے مراکش کے ساتھ ملنے والی سرحد پر واقع اپنے خود مختار انکلیو سیوٹا میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حال ہی میں سینکڑوں کی تعداد میں تارکین وطن نے یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے اس سرحدی علاقے کا رخ کیا اور زبردستی باڑ عبور کرنے کی کوشش کی۔ مقامی حکام کے مطابق اس دوران شدید ہنگامہ آرائی اور پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں جن پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق، اس خطرناک سفر کے دوران کم از کم 34 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کی لاشیں اور زخمی ہونے والے افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر یورپ اور افریقہ کے درمیان سرحد پار کرنے والے تارکین وطن کو درپیش شدید خطرات اور انسانی المیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ لیکن قابو میں ہے، اور سرحدی علاقوں میں اضافی اہلکاروں کو گشت پر مامور کر دیا گیا ہے تاکہ مزید غیر قانونی داخلوں کو روکا جا سکے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری طرف، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تارکین وطن کے انسانی حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے بھی اس بحران پر ہنگامی مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ اس مسئلے کا کوئی دیرپا اور انسانی بنیادوں پر حل تلاش کیا جا سکے، کیونکہ افریقی ممالک سے یورپ آنے والے تارکین وطن کی یہ لہر طویل عرصے سے ایک پیچیدہ سیاسی اور سماجی چیلنج بنی ہوئی ہے۔