World
ایران میں معاشی بحران، ڈالر کی قیمت بیس لاکھ ریال ہوگئی
امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور طویل عالمی پابندیوں کے باعث ایران میں مہیا ہونے والی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ شدید معاشی دباؤ کے نتیجے میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت اب بیس لاکھ ایرانی ریال تک جا پہنچی ہے۔
ایران میں جاری شدید معاشی بحران اور امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، جہاں مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی شہریوں کو مہنگائی کا سامنا ہے اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت اب دو ملین یعنی بیس لاکھ ایرانی ریال تک جا پہنچی ہے۔ اس ہوشربا اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا دیا ہے اور لوگ روزمرہ کی بنیادی اشیاء کی خریداری سے بھی قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔ طویل عرصے سے عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور حالیہ خطے کی کشیدہ صورتحال نے ایرانی مارکیٹ کا ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے شہریوں کی قوت خریدبری طرح متاثر ہوئی ہے اور تنخواہ دار طبقہ بھی دو وقت کی روٹی کے لیے شدید تگ و دو کرنے پر مجبور ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر میں اس تاریخی کمی نے درآمدی اشیاء کو عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور کر دیا ہے جبکہ اندرون ملک تیار ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ تجارتی پابندیوں اور جنگی ماحول کے باعث برآمدات تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور زر مبادلہ کے ذخائر بھی انتہائی نچلی سطح پر آ گئے ہیں۔ اس کٹھن دور میں عام ایرانی شہریوں کا جینا محال ہو چکا ہے اور عوام حکومت سے فوری ریلیف کی توقع لگائے بیٹھے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس طوفان کا سدباب کیا جا سکے۔