LIVE
Loading Breaking News...

بلغاریا کا گاؤں بیزمیر اور ایران کا ممکنہ خطرہ

News Image
بلغاریہ کے گاؤں بیزمیر میں امریکی فضائیہ کے طیاروں کی موجودگی نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا تھا۔ طیاروں کی روانگی کے بعد اگرچہ کچھ سکون ملا ہے لیکن کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
بلغاریا کا ایک چھوٹا سا گاؤں بیزمیر ان دنوں عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں کے رہائشیوں میں ایک عجیب سا خوف پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ ان کا یہ پرسکون خطہ کسی بھی وقت بین الاقوامی کشیدگی بالخصوص ایران کے ممکنہ اہداف کی زد میں آ سکتا ہے۔ اس تشویش کی اصل وجہ امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ طیاروں کی اس علاقے میں نقل و حرکت تھی جس نے گاؤں کے باسیوں کو گہری فکر میں مبتلا کر دیا تھا۔ حالیہ ہفتوں کے دوران جب امریکی فضائیہ کے یہ طیارے اس علاقے میں موجود رہے تو مقامی سطح پر بے چینی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ عالمی سیاست میں جاری تناؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر بیزمیر کے مکینوں کو یہ ڈر تھا کہ ان کے علاقے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے وہ خود بھی کسی بڑے تنازع کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں گاؤں میں ہر طرف اسی موضوع پر چہ مگوئیاں جاری تھیں اور لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند نظر آتے تھے۔ اگرچہ اب ان امریکی طیاروں نے اس علاقے سے پرواز کر کے دوسری طرف منتقلی اختیار کر لی ہے اور ان کے جانے سے ابتدائی طور پر مقامی آبادی کو ایک بڑی نفسیاتی راحت ضرور ملی ہے، تاہم مکمل اطمینان ابھی تک حاصل نہیں ہو سکا۔ گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری سکیورٹی خدشات اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے یہ سکون عارضی ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چھوٹے ممالک کے ایسے علاقے جو بڑے فوجی اتحادوں کے زیر استعمال آتے ہیں، اکثر اوقات مقامی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بیزمیر کا یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح عالمی تنازعات دور دراز کے دیہات اور عام انسانوں کی روزمرہ زندگی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، اور لوگ اپنے گھروں میں بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔