World
امریکہ میں جولائی کے مہینے میں امیگریشن گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ
امریکہ میں امیگریشن حکام کی جانب سے جولائی کے مہینے میں 49,500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریوں کی تعداد جون کے مقابلے میں تقریبا پندرہ فیصد زیادہ ظاہر کرتی ہے۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز) امریکہ میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے اداروں نے ملک بھر میں کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے ماہ جولائی کے دوران چالیس ہزار نو سو پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ تارکین وطن کے حقوق اور سرحدی سیکیورٹی سے متعلق جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں ملک کے مختلف حصوں سے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے اس قسم کی کارروائیاں معمول کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سختی کرنا ہے۔ادارہ جاتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں ہونے والی یہ گرفتاریاں اس سے پچھلے مہینے یعنی جون کے مقابلے میں تقریبا پندرہ فیصد زیادہ ہیں۔ جون کے مہینے میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کم تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موسم گرما کے دوران اور خاص طور پر جولائی میں امیگریشن ایجنٹس نے اپنی سرگرمیوں کو وسیع تر کر دیا تھا۔ اس اضافے کی کئی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں جن میں وفاقی سطح پر سخت پالیسیوں کا نفاذ اور عملے کی اضافی تعیناتی شامل ہے جو پناہ گزینوں اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکین وطن کے فلاحی اداروں نے اس اچانک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں خاندانوں کو توڑنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ میں آنے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں سرحدی سیکیورٹی اور امیگریشن کا مسئلہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں آ چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے اس شعبے میں سختی دکھائی جا رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ان اعداد و شمار میں مزید ردوبدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ تارکین وطن کی آمد اور حکومتی کریک ڈاؤن کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔