Pakistan
پاکستان کے ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کا تاریخی پس منظر
پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں ناقص حفاظتی قوانین اور بلڈنگ کوڈز کی عدم پابندی کے باعث وقتاً فوقتاً آتشزدگی کے ہولناک واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کے پمز ہسپتال سمیت ملک بھر کے طبی مراکز میں پیش آنے والے ان حادثات کے نتیجے میں اب تک درجنوں معصوم بچے اور مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
پاکستان کے بڑے طبی اداروں اور ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں جو ملک کے بنیادی ڈھانچے اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالیہ نشان چھوڑتے ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں چودہ نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد اس نوعیت کے سابقہ حادثات پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں عمارتوں کی تعمیر اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل نہ ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر حادثات رونما ہوتے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2010ء سے لے کر اب تک ملک کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کے متعدد چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں آگ لگنے کے درجنوں واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں ساہیوال، لاہور، کراچی، راولپنڈی اور پشاور کے ہسپتال سرفہرست ہیں۔
ماضی کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے پیڈیاٹرک میڈیسن وارڈ میں ایئر کنڈیشنگ سسٹم میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ سے گیارہ نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس سے قبل فروری 2024ء میں کراچی کے سندھ گورنمنٹ ہسپتال لیاقت آباد کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آگ لگنے سے دو پیرامیڈیکس سمیت چار ملازم جاں بحق اور تین شدید زخمی ہوئے تھے۔ مئی 2023ء میں لاہور کے چلڈرن ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے ایک اور نومولود لقمہ اجل بن گیا تھا جبکہ جنوری 2020ء میں کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے ایک اور بچی جان کی بازی ہار گئی تھی۔ اسی طرح جون 2012ء میں لاہور کے سروسز ہسپتال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں چار نومولود جاں بحق اور سترہ زخمی ہوئے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کے وارڈز اور حساس یونٹس حفاظتی لحاظ سے انتہائی غیر محفوظ رہے ہیں۔
صرف بچوں کے وارڈز ہی نہیں بلکہ ہسپتالوں کے بیسمنٹس، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس اور او پی ڈی بھی اس خطرے کی زد میں رہے ہیں۔ اکتوبر 2025ء میں کراچی کے ضیاالدین ہسپتال کے بیسمنٹ میں آگ لگی جسے بروقت کارروائی سے قابو پا لیا گیا، جبکہ نومبر 2025ء میں سہون کے سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایمرجنسی اور ڈائیلاسز سیکشن کو نقصان پہنچا۔ لاہور کے سروسز ہسپتال، میयो ہسپتال، جناح ہسپتال اور راولپنڈی کے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں بھی ماضی میں شارٹ سرکٹ یا گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث بڑے حادثات ہو چکے ہیں۔ ان تمام حادثات نے ہسپتالوں کی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے ہیں کیونکہ فائر سیفٹی آڈٹ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت کا فقدان اکثر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بلڈنگ کوڈز کی پاسداری کو لازمی قرار نہ دیا گیا اور باقاعدگی سے فائر سیفٹی آڈٹ نہ کروایا گیا تو ایسے دردناک واقعات کا اعادہ ہوتا رہے گا۔ ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مریض اور ان کے لواحقین آتے ہیں، جن کی جانوں کا تحفظ حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ہسپتالوں خصوصاً نوزائیدہ بچوں کے وارڈز اور آئی سی یو میں جدید ترین فائر فائٹنگ سسٹمز نصب کیے جائیں اور عملے کو ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہونے کی پیشگی تربیت دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک سانحات سے بچا جا سکے۔