LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی اگلی لہر: کاروباری تیاری کے لیے پانچ اہم اقدامات

News Image
گزشتہ دو سالوں سے کاروباری ادارے مصنوعی ذہانت کے حصول کو ہی اپنا حتمی ہدف سمجھ رہے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اخراجات کے بجائے اس کی حقیقی افادیت اور پیداواری صلاحیت پر توجہ دی جائے۔
گزشتہ دو سالوں کے دوران دنیا بھر کے بیشتر کاروباری اداروں نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو اپنانے کو ہی اپنا سب سے بڑا ہدف بنا رکھا تھا۔ جتنے زیادہ صارفین، نئے ٹولز اور تجربات ہوتے، اتنا ہی زیادہ کامیاب سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اب کارپوریٹ دنیا میں یہ سوچ بدل رہی ہے اور قائدین صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنیاد پر کامیابی کا اندازہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں۔ اے آئی کے شعبے میں اندھا دھند اخراجات اور تجربات کا یہ ابتدائی دور اب اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے اور اب کاروباروں کو زیادہ پائیدار اور نتیجہ خیز حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق، تنظیموں کو اس تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لیے اپنی توجہ کو بنیادی ڈھانچے اور حقیقی ویلیو جنریشن کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ اس نئی حقیقت کا تقاضا ہے کہ کمپنیاں اے آئی کے بجٹ کا ہوشیاری سے استعمال کریں تاکہ سرمایہ کاری پر بہتر منافع حاصل کیا جا سکے اور غیر ضروری اخراجات سے بچا جا سکے۔ اگلی لہر کے لیے تیاری کے لیے پانچ بنیادی اقدامات کو اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے، جن میں سب سے پہلے اپنے کاروباری مقاصد کا از سر نو جائزہ لینا شامل ہے۔ اداروں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اے آئی ٹولز کس طرح براہ راست ان کے مالی اور آپریشنل اہداف کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ دوسرا اہم قدم پائلٹ پروجیکٹس سے آگے بڑھ کر مکمل پیمانے پر اسٹریٹجک نفاذ کی طرف جانا ہے۔ تیسرا اقدام ملازمین کی مسلسل تربیت اور مہارت میں بہتری لانا ہے تاکہ وہ دستیاب ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کر سکیں۔ چوتھا مرحلہ ڈیٹا کے معیار اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ بہتر ڈیٹا کے بغیر کوئی بھی اے آئی ماڈل بہترین نتائج نہیں دے سکتا۔ پانچواں اور آخری اہم قدم یہ ہے کہ اے آئی کے اخراجات کا سخت مالیاتی جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی کارکردگی اور لاگت کا تناسب بالکل درست رہے۔ ان اقدامات پر عمل پیرا ہو کر ادارے نہ صرف موجودہ منڈی کے چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی اگلی ترقیاتی لہر سے بھرپور فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔