LIVE
Loading Breaking News...

امریکی قانون سازوں کا چینی سیکیورٹی ایجنسیوں کی مدد پر پابندی کا مطالبہ

News Image
امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی شہریوں اور کاروباری اداروں کو چینی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی معاونت سے سختی سے روکا جائے۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے والی ٹیکنالوجی اور معاونت کی منتقلی کو روکنا ہے۔
واشنگٹن میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے منگل کے روز ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی شہریوں اور کاروباری اداروں کو چینی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی معاونت فراہم کرنے سے روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات اٹھائے۔ قانون سازوں کا ماننا ہے کہ امریکی ماہرین اور اداروں کی جانب سے چین کے سیکیورٹی ڈھانچے کو ملنے والی مدد واشنگٹن کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اس مشترکہ مطالبے کے تحت امریکی حکومت سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایک جامع فریم ورک تیار کرے گی جس کے ذریعے ان تمام سرگرمیوں کو غیر قانونی یا انتہائی محدود کر دیا جائے جن سے چین کی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہو۔ حالیہ برسوں میں چین کے ساتھ ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر امریکی دارالحکومت میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور دونوں بڑی جماعتیں بیجنگ کے خلاف ایک سخت لائحہ عمل اپنانے پر متفق نظر آتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ اس بابت کوئی سخت قانون سازی یا انتظامی حکم نامہ جاری کرتی ہے تو اس سے چین اور امریکہ کے درمیان جاری اقتصادی اور تکنیکی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، قانون سازوں کا اصرار ہے کہ ملک کی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک برتری کو برقرار رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ کوئی بھی امریکی شہری انجانے میں یا جان بوجھ کر غیر ملکی طاقت کے خفیہ ڈھانچے کو تقویت نہ پہنچا سکے۔