AI
پرومیتھیوس کے سابق بانیوں کا نیا طاقتور اے آئی ماڈل متعارف
امیزون کے تعاون سے چلنے والے پراجیکٹ پرومیتھیوس کو خیرباد کہنے والے دو محققین نے ایک ایسا خود ساختہ مصنوعی ذہانت کا ماڈل پیش کیا ہے جو کائنات کی وسیع معلومات کو سنبھال سکتا ہے۔ یہ نیا نظام اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے عام طور پر ایک اکیلا کمپیوٹر سنبھالنے سے قاصر ہوتا ہے۔
سان فرانسسکو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے جب دو معروف محققین نے اپنے انفرادی اور نئے منصوبے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی تحقیقی جوڑی ہے جسے ماضی میں جیف بیزوس کی مالی معاونت سے چلنے والے اہم ترین 'پراجیکٹ پرومیتھیوس' کی قیادت کے لیے نامزد کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس منصوبے کو چھوڑ کر اپنے الگ راستے کا انتخاب کیا۔ منگل کے روز انہوں نے دنیا کے سامنے جو شے پیش کی ہے وہ ایک بالکل نیا مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے، جو کائنات کے پیمانے پر معلومات کو جذب کرنے اور پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام ڈیٹا کے اس قدر وسیع سمندر کو ہینڈل کر سکتا ہے کہ عام طور پر ایک اکیلا کمپیوٹر اس بوجھ کو اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔
اس نئے اے آئی ماڈل کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی بے مثال ڈیٹا پروسیسنگ کی صلاحیت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر روز نت نئے ماڈلز سامنے آ رہے ہیں، یہ نیا نظام کائنات کی پیچیدہ ساخت اور کہکشاؤں کے پھیلاؤ جیسے پیچیدہ موضوعات کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں ڈھالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان محققین نے ثابت کر دکھایا ہے کہ بڑی کارپوریشنز اور ارب پتی افراد کی پشت پناہی کے بغیر بھی اکیلے محققین اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے انقلابی شاہکار تخلیق کر سکتے ہیں جو پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ سان فرانسسکو کی ٹیک انڈسٹری میں اس پیشرفت کو انتہائی حیرت اور تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ماڈل روایتی اے آئی سسٹمز کی حدود کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی سے مستقبل میں کائناتی تحقیق اور سائنسی ماڈلنگ کے نئے دروازے کھلیں گے۔ پرومیتھیوس کو چھوڑنے کا فیصلہ بظاہر خطرناک معلوم ہوتا تھا کیونکہ جیف بیزوس جیسے ارب پتی کا نام اس کے ساتھ جڑا تھا، لیکن ان دونوں بانیوں نے اپنی تخلیقی آزادی کو ترجیح دی۔ ان کا تیار کردہ یہ نیا ماڈل نہ صرف سائنسی تحقیق کو تیز کرے گا بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے مزید اثرات سامنے آئیں گے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اس چیلنج کا کس طرح جواب دیتی ہیں۔