LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ بال روم کی تعمیر اور قانونی مشکلات

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایسٹ ونگ گرا کر ایک پرتعیش بال روم کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالتوں کے ذریعے اس تعمیر کو رکوانا انتہائی مشکل ثابت ہوگا۔
امریکہ کے سیاسی اور تعمیراتی حلقوں میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کو گرا کر ایک شاندار اور پرتعیش بال روم کی تعمیر کا بڑا فیصلہ کیا۔ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی بظاہر اس شرط پر مبنی ہے کہ اگر وہ تیزی سے تعمیراتی کام کا آغاز کر دیں تو کوئی بھی عدالت یا قانون ساز ادارہ اس منصوبے کو قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اتنی جلدی نہیں روک سکے گا کہ کام رک جائے۔ سیاسی اور قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ جابجا قیاس درست ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ امریکی نظامِ عدل میں کسی منصوبے کے خلاف فوری حکم امتناعی حاصل کرنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرِ قانون الی ہونک نے لکھا ہے کہ کسی بھی مدعی کے لیے فوری طور پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا اور تعمیراتی کام کو روکنے کے احکامات لینا ایک انتہائی دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے۔ تعمیراتی مشینری کے میدان میں اترنے کے بعد حقائق اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ عدالتوں کے لیے مؤثر کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی تاریخی عمارت میں اس بڑی تبدیلی نے جہاں ایک طرف سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، وہیں دوسری طرف قانونی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ایگزیکٹو اختیارات کے تحت اس نوعیت کی تعمیرات کو روکنے کے لیے کوئی موثر قانونی لائحہ عمل موجود ہے بھی یا نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس قسم کے پروجیکٹس صدارتی ترجیحات کا حصہ ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی ورثے کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان محاذ آرائی میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم تب تک ابتدائی تعمیراتی کام کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہوگا۔