LIVE
Loading Breaking News...

غزہ جنگ بندی معاہدہ: فلسطینیوں کی مایوسی اور تازہ ترین صورتحال

News Image
غزہ کے مکینوں نے تازہ ترین جنگ بندی معاہدے پر انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس سے جنگ ختم ہونے کی کوئی امید نہیں۔ شہریوں کے مطابق مسلسل بمباری اور تباہی کے بعد اب ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔
غزہ کی پٹی میں جاری طویل جنگ اور تباہی کے دوران سامنے آنے والے تازہ ترین جنگ بندی معاہدے پر فلسطینی شہریوں نے شدید مایوسی اور بے یقینی کا اظہار کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے متعدد معاہدوں اور مذاکرات کی ناکامی پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، اس لیے انہیں اس نئی کوشش سے بھی کسی بڑے معجزے کی کوئی امید نہیں۔ غزہ کے گلی محلوں میں موجود عام شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تباہی اور اپنوں کی جدائی نے انہیں اندر سے توڑ دیا ہے اور اب 'بس بہت ہو گیا' کی کیفیت طاری ہے۔ بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششیں اور مذاکرات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ غزہ کے مکینوں کا ماننا ہے کہ جب تک کوئی حتمی اور موثر عالمی لائحہ عمل سامنے نہیں آتا، اس وقت تک اس قسم کے معاہدے محض کاغذی کارروائی ثابت ہوں گے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محاصرے اور خوراک کی شدید قلت نے پہلے ہی انسانی بحران کو عروج پر پہنچا دیا ہے اور ہر گزرتا دن ان کے لیے زندگی اور موت کی جنگ بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق غزہ کے عوام اب مزید جھوٹی امیدوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پچھلے کئی ماہ سے جاری بمباری کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، ہسپتال غیر فعال ہیں اور لاکھوں افراد کھلے آسمان کے نیچے یا عارضی خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تازہ ترین جنگ بندی کی خبروں کے باوجود عام لوگوں کے چہروں پر کوئی خوشی یا امید دکھائی نہیں دیتی، بلکہ وہ اس طویل عذاب سے فوری اور مستقل نجات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔