World
فرانسیسی عدالت کا فیصلہ، کزمک ریڈی ایشن اور فضائی میزبان کا کینسر
فرانسیسی عدالت نے ایک سابق فضائی میزبان کے چھاتی کے کینسر کو پیشہ ورانہ بیماری تسلیم کر لیا ہے۔ اس فیصلے میں طویل پروازوں کے دوران کزمک ریڈی ایشن کو اس سنگین بیماری کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
پیرس کی ایک عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق ایئر فرانس کی فضائی میزبان سوفی لینولٹ کے چھاتی کے کینسر کو پیشہ ورانہ بیماری کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اس قانونی جنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ فضائی سفر کے دوران عملے کو جو کزمک یعنی کائناتی شعاعیں ملتی ہیں، وہ ان کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور اسی کی وجہ سے یہ جان لیوا بیماری لاحق ہوئی۔ یہ فیصلہ فضائی عملے کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے قبل اس قسم کے طبی مسائل کو کام سے متعلقہ بیماری کے طور پر ثابت کرنا نہایت مشکل تھا۔ سوفی لینولٹ نے اس طویل جنگ کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر طویل پروازیں کرنے کے فرائض کی انجام دہی کے دوران وہ مسلسل خطرناک شعاعوں کی زد میں رہیں۔ ماہرین کا طویل عرصے سے یہ ماننا ہے کہ زمین کے ماحول سے باہر یا بہت زیادہ بلندی پر اڑنے والے طیاروں کے مسافر اور عملہ کزمک ریڈی ایشن کا شکار ہوتے ہیں، جس سے کینسر جیسی بیماریاں پیدا ہونے کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس عدالتی حکم کے بعد اب ایوی ایشن انڈسٹری پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے عملے کی صحت کے تحفظ کے لیے مزید موثر اقدامات کرے اور پروازوں کے اوقات کار کو اس طرح ترتیب دے کہ ریڈی ایشن کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس فیصلے سے نہ صرف متاثرہ سابق فضائی میزبان کو قانونی اور مالی ریلیف ملنے کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ دنیا بھر میں فضائی عملے کی صحت سے متعلق حفاظتی تداویز پر بھی نئے سرے سے غور شروع ہو گیا ہے۔