LIVE
Loading Breaking News...

نیپال اور چین سرحد پر سیلاب، آٹھ افراد جاں بحق اور بڑے پیمانے پر نقصان

News Image
نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں شدید سیلاب اور تودہ گرنے کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چینی میڈیا نے تبت کے تجارتی مرکز میں بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام نے دریا کے قریب رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
نیپال اور چین کے مشترکہ سرحدی علاقے میں بدھ کے روز آنے والے شدید سیلاب اور تودہ گرنے کے افسوسناک واقعے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیپالی پولیس کے مطابق طوفانی سیلاب اپنے راستے میں آنے والے گھروں، گاڑیوں اور دیگر املاک کو بہا لے گیا ہے جبکہ تبت کے تجارتی مرکز میں بھی چینی سرکاری میڈیا نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا سکے اور لاپتہ ہونے والوں کی تلاش کی جا سکے۔ عین شاہدین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسی ہولناک تباہی نہیں دیکھی۔ سیلابی ریلے اپنے ساتھ کئی ٹرکوں، گھروں اور انسانوں کو بہا لے گئے۔ نیپالی حکام نے دریا کے کنارے اور نش نشینی کے علاقوں میں آباد لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نیپال آرمی نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹرز اور خصوصی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیمیں تعینات کر دی ہیں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے نیپال کے بجلی کے نظام کو بھی کاری ضرب پہنچی ہے۔ نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی کے مطابق ہائیڈرو پاور اور سولر سمیت تقریبا 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے جس سے ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقے میں برف اور چٹان کے تودے گرنے سے دریا کا بہاؤ رک گیا تھا جس نے اچانک ایک بڑے سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لی۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں مون سون کی بارشیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث اس طرح کے انتہائی موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور دریا کے بالائی حصے میں اب بھی رکاوٹ موجود ہونے کی وجہ سے دوسرے سیلابی ریلے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔