Pakistan
پمز اسپتال آگ کا واقعہ: بچوں کی اموات پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں کم از کم پندرہ نومولود بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ واقعے کے بعد مختلف سیاسی شخصیات اور طبی ماہرین کی جانب سے اس المناک واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کے معروف ترین طبی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے نتیجے میں کم از کم پندرہ نومولود بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات اور سرکاری حکام کے مطابق اس ہولناک آتشزدگی کی بنیادی وجہ اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں ائیر کنڈیشنگ (اے سی) کے نظام میں خرابی اور شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔ اس حادثے نے نہ صرف اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں بلکہ پورے ملک میں سوگ اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کے فوری بعد والدین اور لواحقین نے اسپتال کے باہر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا، جہاں ایک غمزدہ والد کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ ان کا بچہ اس وقت کہاں ہے اور وہ صرف اپنے لختِ جگر کی واپسی چاہتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت وارڈ میں شدید افراتفری پھیل گئی تھی اور بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث نقصان میں اضافہ ہوا۔ اس المناک واقعے کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور طبی ماہرین نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے سانحے کی ایک اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں بالخصوص معصوم بچوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔