World
لندن میں چینی سفارت خانے کی منظوری قانونی قرار، برطانوی عدالت کا فیصلہ
برطانوی عدالت نے لندن میں چین کے نئے اور بڑے سفارت خانے کی تعمیر کی منظوری کو قانونی قرار دے دیا ہے۔ یہ بیس ہزار مربع میٹر پر محیط منصوبہ برطانیہ میں سب سے بڑا سفارتی کمپلیکس بنے گا۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے دارالحکومت لندن میں چین کے مجوزہ اور انتہائی بڑے سفارت خانے کی تعمیر کے حوالے سے دائر کی جانے والی درخواستوں پر اپنا اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اس دیوقامت سفارتی منصوبے کی منظوری کا عمل تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انجام پایا تھا، لہذا اس میں کسی بھی قسم کی قانونی خامی پائی نہیں جاتی۔ اس فیصلے کے بعد اب چین کے لیے لندن میں اپنے سفارتی دفاتر کی توسیع اور تعمیر کا راستہ صاف ہو گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ مجوزہ مقام بیس ہزار مربع میٹر کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سائز اور رقبے کی بنیاد پر یہ منصوبہ مملکتِ متحدہ میں کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سفارتی کمپلیکس بن جائے گا۔ اس جگہ پر چین کا یہ نیا سفارت خانہ نہ صرف سفارتی امور کو سنبھالے گا بلکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ اور سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز بھی بنے گا، جس پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، مقامی سطح پر اس منصوبے کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی پائے جاتے تھے اور سکیورٹی نیز ٹریفک کے مسائل کے پیش نظر اس کی مخالفت بھی کی جا رہی تھی۔ تاہم عدالت کی جانب سے قانونی قرار دیے جانے کے بعد تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں اور منتظمین اب اس منصوبے پر بلا تعطل عمل درآمد شروع کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے سے نہ صرف چین کے سفارتی عملے کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ دوطرفہ تعلقات میں بھی مزید بہتری آئے گی۔