Health
پروسٹیٹ کینسر کا نیا ٹیسٹ اور اس کی اہمیت
برطانیہ میں پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں کے لیے مفت پروسٹیٹ کینسر ٹیسٹ کی پالیسی میں تبدیلی پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایک نیا اور زیادہ درست تشخیص فراہم کرنے والا نجی ٹیسٹ بھی سامنے آیا ہے جو مہنگا ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔
برطانیہ میں حال ہی میں سامنے آنے والی اس خبر نے کہ پچاس سال سے زائد عمر کے وہ مرد جن میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، اب مفت پروسٹیٹ کینسر ٹیسٹ کے حقدار نہیں رہیں گے، طبی حلقوں اور عوام میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے اس متنازع فیصلے کے بعد لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ابتدائی تشخیص ہی کینسر کے موثر علاج کی کلید مانی جاتی ہے۔ اس دوران ایک نئے نجی ٹیسٹ نے توجہ حاصل کی ہے جس کی قیمت 395 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے اور یہ پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص میں روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ درست نتائج فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیسٹ غیر ضروری بائیوپسی سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب یہ ٹیسٹ اتنی افادیت کا حامل ہے تو اسے نیشنل ہیلتھ سروس یعنی این ایچ ایس کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ مالیاتی پابندیوں اور وسائل کی کمی کی وجہ سے حکومت تمام افراد کو یہ مہنگا ٹیسٹ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ جن لوگوں کے پاس مالی وسائل ہیں وہ نجی سطح پر اس ٹیسٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ عام طبقہ اس سہولت سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال نے صحت کے شعبے میں طبقاتی فرق کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے جہاں غریب اور متوسط طبقے کے افراد کو معیاری طبی سہولیات تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوسائٹی اور فلاحی اداروں کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کرے اور تمام شہریوں کے لیے یکساں اور بہتر تشخیصی سہولیات کو یقینی بنائے تاکہ پروسٹیٹ کینسر جیسے موذی مرض کا بروقت اور درست سد باب کیا جا سکے۔