LIVE
Loading Breaking News...

فریڈرچز اٹیکسیا کے مریضوں کے لیے ایچ ایس ای کی نئی دوا کی منظوری

News Image
آئرش ہیلتھ سروس ایگزیکٹو (ایچ ایس ای) نے فریڈرچز اٹیکسیا نامی نادر جینیاتی بیماری کے مریضوں کے لیے ایک اہم دوا کی فنڈنگ اور ری امبرسمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے آئرلینڈ کے متاثرہ مریضوں کو اس مہنگے علاج تک مفت اور آسان رسائی حاصل ہو سکے گی۔
آئرش ہیلتھ سروس ایگزیکٹو یعنی ایچ ایس ای (HSE) نے ایک انتہائی نادر جینیاتی عارضے میں مبتلا مریضوں کے لیے بڑی راحت کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی دوا کی ری امبرسمنٹ اور فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ نادر عارضہ، جو فریڈرچز اٹیکسیا (Friedreich's ataxia) کہلاتا ہے، انسانی اعصابی نظام کو آہستہ آہستہ اور شدید نقصان پہنچاتا ہے جس سے مریضوں کے لیے روزمرہ کے معمولات انجام دینا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ طویل عرصے سے اس بیماری کے علاج کے حوالے سے طبی ماہرین اور مریضوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے مسلسل مطالبات کیے جا رہے تھے، جن پر اب عمل درآمد کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب آئرلینڈ کے اندر اس جان لیوا اور اعصابی کمزوری کا شکار بننے والی بیماری کے مریضوں کو جدید علاج معالجہ سرکاری سطح پر میسر ہو سکے گا۔ فریڈرچز اٹیکسیا عام طور پر چلنے پھرنے کی صلاحیت، پٹھوں کے توازن اور دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی فراہمی سے نہ صرف مریضوں کی زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ ان کے خاندانوں پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی کافی حد تک کم ہو جائے گا کیونکہ اس نوعیت کے نایاب امراض کی ادویات عام طور پر انتہائی مہنگی ہوتی ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ ایچ ایس ای کے اس اقدام کو ملک بھر میں طبی حلقوں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ضروری انتظامی اور طبی مراحل طے کرنے کے بعد یہ دوا جلد ہی مستحق مریضوں کو فراہم کرنا شروع کر دی جائے گی۔ محکمہ صحت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومت نادر بیماریوں کا شکار شہریوں کو بہترین طبی سہولیات اور زندگی بچانے والی ادویات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتی رہے گی تاکہ کسی بھی شہری کو علاج کی محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔