LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ کو تیل کے ذخائر میں کمی اور سنگین بحران کا سامنا

News Image
امریکہ کی ایران کے خلاف غیر مقبول جنگ کے باعث تیل کے اسٹریٹجک ذخائر چالیس سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ اس صورتحال نے ٹرمپ انتظامیہ اور معاشی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ کو ایک بڑے اندرونی اور معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اپنی جنگی اور سیاسی مہم جوئی کے دوران ملکی تاریخ میں تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد یہ ذخائر پچھلے چالیس سالوں کی سب سے کم ترین سطح پر آ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف واشنگٹن کے پالیسی سازوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے بلکہ معاشی ماہرین نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مالیاتی ڈیٹا فراہم کرنے والی معروف کمپنی بارچارٹ کی جانب سے ایک تاریک پیشگوئی بھی سامنے آئی ہے جس نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کے ذخائر کا اس حد تک کم ہونا ملک کی توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ امریکی عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی ایران کے خلاف اس غیر مقبول جنگ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ملک کو نہ صرف جانی و مالی بلکہ توانائی کے محاذ پر بھی ناقابل تلافی نقصانات کا اندیشہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مشاورت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، تاہم فی الحال کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔ ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑیں گے، جس سے عام امریکی شہری کی زندگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں انتظامیہ کے لیے یہ بحران ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا۔