Business
نارویجن توانائی کمپنیوں کا تیل و گیس کی تلاش کے لیے بڑا معاہدہ
ناروے کے تین بڑے توانائی اداروں نے نارویجن براعظمی شیلف پر تلاش کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے ہاتھ ملا لیا ہے۔ اس اسٹریٹجک اتحاد کا مقصد خطے میں نئے اور بڑے تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کو یقینی بنانا ہے۔
ناروے کے تین بڑے اور معروف توانائی کے اداروں، ایکوی نار، اکر بی پی اور وار انرجی نے نارویجن براعظمی شیلف یعنی این سی ایس (NCS) پر تیل اور گیس کی تلاش کی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک نئے اسٹریٹجک اتحاد کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس باہمی تعاون کا بنیادی مقصد خطے میں توانائی کے نئے اور بڑے ذخائر کی دریافت کے عمل کو تیز کرنا اور تلاش کے دوران ہونے والے اخراجات اور خطرات کو کم کرنا ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق یہ قدم ناروے کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔
اس معاہدے کے تحت یہ تینوں کمپنیاں اپنے تکنیکی وسائل، تحقیقی ڈیٹا اور پچھلے تجربات کو باہم شیئر کریں گی۔ نارویجن براعظمی شیلف طویل عرصے سے یورپ کو توانائی کی فراہمی کا ایک اہم ترین مرکز رہا ہے، اور اس اتحاد کے بعد یہاں تلاش کے پیچیدہ اور مشکل منصوبوں کو بہتر طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے گا۔ کمپنیوں کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ لائحہ عمل سے نہ صرف تلاش کی کامیابی کے امکانات بڑھیں گے بلکہ ناروے کے معاشی مستقبل کو بھی مزید استحکام ملے گا۔
حالیہ برسوں میں توانائی کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور ماحولیاتی ضابطوں کی سختی کے پیش نظر کمپنیوں پر یہ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اپنے وسائل کو زیادہ عقلمندانہ طریقے سے استعمال کریں۔ یہ اتحاد اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے ناروے کے سمندری حدود میں موجود غیر دریافت شدہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تعاون سے نہ صرف نارویجن توانائی کے شعبے کو نئی زندگی ملے گی بلکہ یورپی منڈی میں گیس اور تیل کی طویل مدتی رسد کو بھی یقینی بنایا جا सकेगा۔