LIVE
Loading Breaking News...

قائد اعظم یونیورسٹی میں جاپانی انڈو پیسیفک پالیسی پر سیمینار کا انعقاد

News Image
قائد اعظم یونیورسٹی میں منعقدہ ایک خصوصی سیمینار کے دوران جاپان کی انڈو پیسیفک پالیسی اور تزویراتی شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ماہرین نے خطے میں طاقت کے توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے متوسط طاقتوں کی سفارت کاری پر زور دیا۔
اسلام آباد کی معروف تعلیمی درسگاہ قائد اعظم یونیورسٹی میں حال ہی میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا بنیادی مقصد جاپان کی خارجہ پالیسی اور اس کے آزاد و کھلے انڈو پیسیفک وژن (FOIP) پر تفصیلی روشنی ڈالنا تھا۔ اس تقریب میں جاپان سے تعلق رکھنے والے ممتاز پروفیسر اور ماہرینِ امورِ بین الاقوامیت نے خصوصی طور پر شرکت کی اور خطے میں ٹوکیو کی سفارتی ترجیحات کے حوالے سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ سیمینار کے دوران خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کے تناظر میں جاپان کی پالیسیوں کا گہرا تجزیہ پیش کیا گیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ انڈو پیسیفک کا خطہ عالمی تجارت اور سلامتی کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ موجودہ دور میں جہاں بڑی طاقتوں کے مابین مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں خطے میں امن، سلامتی اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جاپان کے وژن کا مقصد خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور کھلی منڈیوں کے اصولوں پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے یکطرفہ غلبے کے رجحانات کی روک تھام کی جا سکے۔ سیمینار کے دوران 'ایف او آئی پی تھری پوائنٹ او' (FOIP 3.0) کے تصور پر بھی جامع بحث کی گئی، جس کا مقصد انڈو پیسیفک خطے میں متوسط طاقتوں (Middle Powers) کے درمیان سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جاپان جیسے ممالک کے مابین اس قسم کے علمی اور تعلیمی تبادلے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر طلباء اور اساتذہ کے سوالات کے جوابات دیے گئے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تعلیمی مباحث کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ بین الاقوامی امور پر بہتر فہم پیدا کی جا سکے۔