World
ایران کا امریکہ کو انتباہ: اہم مفادات اور انرجی روٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کسی بھی قسم کی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو امریکی مفادات اور توانائی کے اہم راستوں کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔
تہران: ایران کے اعلیٰ عسکری اور سیاسی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ملک امریکی پابندیوں اور ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ تہران کی دفاعی اور عسکری حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لائی گئی ہے اور اب روایتی دفاع کے بجائے جارحانہ انداز اپنایا جا رہا ہے۔ ایرانی عسکری کمانڈرز کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام کسی بھی قسم کے بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور ہائی الرٹ پر ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی اہم بنیادی ڈھانچے یا تنصیبات کو کسی بھی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تہران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کے جواب میں خطے میں موجود امریکہ کے اہم مفادات اور توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں یا چوک پوائنٹس پر شدید نوعیت کے حملے کیے جائیں گے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کی لہر ایک بار پھر عروج پر ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، ایران کی جانب سے یہ سخت الفاظ اور پالیسی میں تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے جوابی حکمت عملی کے تحت سخت قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے ہتھیار اور صلاحیتیں موجود ہیں جو ضرورت پڑنے پر مخالفین کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ خطے کے سکیورٹی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔