LIVE
Loading Breaking News...

سیم ألٹمن کا بیان: اے آئی چیٹ بوٹس اور انسانی عادات

News Image
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمن نے اعتراف کیا ہے کہ انسانوں کی پرانی عادات مصنوعی ذہانت کی منتقلی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی بالغوں میں اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال 49 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے عالمی منظر نامے پر سرگرم ادارے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم ألٹمن نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب نے ماضی میں بہت زیادہ بلند و بالا عزائم کا اظہار کیا اور یہی وجہ ہے کہ ہماری پرانی عادات آج اے آئی کی بڑی منتقلی کے عمل کو سست کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تبدیلی جتنی تیزی سے توقع کی جا رہی تھی، زمینی حقائق اور انسانی رویے اس رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والے ایک تازہ ترین سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں لگ بھگ 49 فیصد بالغ افراد اب کسی نہ کسی شکل میں اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ شرح دو سال قبل کے 33 فیصد کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے، تاہم ماہرین کے نزدیک یہ اب بھی انٹرنیٹ جیسی بنیادی اور ہمہ گیر ٹیکنالوجی کی روزمرہ استعمال کی سطح تک نہیں پہنچ سکی ہے جسے دنیا بھر میں مکمل قبولیت حاصل ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام عوام اور کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی رفتار میں یہ فرق اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ لوگ نئی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنے میں وقت لے رہے ہیں۔ پرانے روزمرہ کے طریقے اور روایتی کام کرنے کے انداز اس نئے ڈیجیٹل انقلاب کی راہ میں ایک ذہنی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ سیم ألٹمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے اے آئی کے ٹولز مزید آسان اور کارآمد ہوتے جائیں گے، لوگوں کا رویہ بھی تبدیل ہوگا اور اس منتقلی کی رفتار میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔