Pakistan
پاکستان کی سلامتی کے لیے اچھی حکمرانی انتہائی ضروری ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے گڈ گورننس بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے رواں سال اب تک ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں جن میں سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
راولپنڈی: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھی حکمرانی (گڈ گورننس) انتہائی ناگزیر ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک بالخصوص بلوچستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے اہم مسائل کا حل گڈ گورننس کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے سنجیدہ بحث کرنا ہوگی تاکہ عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے عوامی نمائندوں کو انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے لیے فیصلہ سازی کرنی چاہیے۔
پریس کانفرنس کے دوران عسکری ترجمان نے انکشاف کیا کہ رواں سال سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ملک بھر میں مجموعی طور پر 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کیے۔ ان میں سے اکثریت یعنی 31,000 سے زائد آپریشنز اکیلے صوبہ بلوچستان میں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 3,145 واقعات پیش آئے، جن میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سرفہرست رہے۔ سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 2,084 تصدیق شدہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو کہ اوسطاً یومیہ 10 دہشت گردوں کی ہلاکت بنتی ہے اور یہ اب تک کی سب سے بلند شرح ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک و قوم کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 819 پاکستانی شہید ہوئے جن میں پاک فوج کے جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاران کے ساتھ ساتھ معصوم شہری بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران خودکش دھماکوں کے 28 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر افغان شہریوں اور ان کے سکیورٹی اداروں سے وابستہ عناصر کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستِ پاکستان اور سکیورٹی فورسز کا موقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ اب مذاکرات یا نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے، اور ریاست اپنی آئینی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کی پرو ایکٹیو کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ فورسز نے ان کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال اور وہاں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے تین بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے تاکہ عوام کے سامنے حقائق پوری طرح واضح ہو سکیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے غیور عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربرانیوں کی بدولت ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت خاک میں ملا دیا جائے گا اور ملک میں مستقل امن کا قیام یقینی بنایا جائے گا۔