Business
گھریلو توانائی کے بل: مہنگی بجلی اور گیس کی نئی حقیقت
گھریلو پیمانے پر توانائی کی قیمتوں میں متوقع اضافے کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ صارفین کو ریلیف فراہم کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو طویل مدت کے لیے مہنگی بجلی اور گیس کے بلوں کے ساتھ جینے کی عادت ڈالنا ہوگی۔
دنیا بھر میں گھریلو صارفین کو اب اس تلخ حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں توانائی کے بلوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث گھریلو صارفین کے لیے بجلی اور گیس کے بل مسلسل بلند رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ حکومت پر اس بات کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جن سے بل ادا کرنے والے عام شہریوں کو کسی حد تک ریلیف مل سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عارضی سبسڈی یا وقتی پیکیجز اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کا ڈھانچہ ایسی نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں سستی توانائی کا دور اب قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ شہریوں اور پالیسی سازوں دونوں کو ہی اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مستقبل میں توانائی کی بچت اور متبادل ذرائع کا استعمال ہی واحد راستہ بچتا ہے۔ حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف توانائی کے شعبے کے مالیاتی توازن کو برقرار رکھے اور دوسری طرف نچلے اور متوسط طبقے کے گھریلو صارفین کو اس شدید مالی دباؤ سے محفوظ رکھے۔ آنے والے مہینوں میں اس حوالے سے مزید اہم فیصلے متوقع ہیں جن سے توانائی کے شعبے کی سمت کا تعین ہوگا۔