World
امریکہ: کار حادثے کے بعد ہسپتال میں آئی سی ای کی حراست
امریکہ میں ایک دلخراش واقعے کے دوران کار حادثے کے بعد ہسپتال میں علاج کے لیے داخل ماں اور بیٹی کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد طبی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
امریکہ میں امیگریشن کے قوانین اور ان کے نفاذ کے طریق کار پر ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے جب ایک تازہ واقعے میں کار حادثے کا شکار ہونے والی ماں اور اس کی بیٹی کو ہسپتال کے بستر سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب دونوں شدید زخمی ہونے کے بعد طبی امداد حاصل کر رہی تھیں اور ہسپتال کے اندر ڈاکٹروں کی نگرانی میں زیر علاج تھیں۔
حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، دونوں ماں بیٹا ایک سڑک حادثے کا شکار ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی تھی۔ تاہم، طبی عملے اور مریضوں کی حفاظت کے لیے مخصوص سمجھے جانے والے اداروں کے اندر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی ICE کے اہلکار پہنچ گئے اور کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس واقعے کے بعد انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مقامی رہنماؤں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں جیسے حساس اور پناہ گاہ والے مقامات پر اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف مریضوں کے بنیادی طبی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے عام لوگوں میں خوف و ہراس بھی پھیلتا ہے جس کی وجہ سے ضرورت مند افراد علاج کروانے سے بھی کترانے لگتے ہیں۔
دوسری جانب، متعلقہ حکام کا موقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکی قوانین پر عمل درآمد کے پابند ہیں اور وہ قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اب قانونی ماہرین اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ متاثرہ ماں اور بیٹی کو قانونی امداد فراہم کی جا سکے اور ہسپتالوں میں اس قسم کے چھاپوں کے خلاف آواز بلند کی جا سکےั۔