Technology
ری سائیکل راکٹ ٹیکنالوجی اور خلائی سفر میں انقلاب
چین کی کمپنی لینڈ اسپیس نے مدار میں جانے والے راکٹ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے واپس حاصل کر لیا ہے، جس کا مقصد خلائی سفر کے اخراجات کو ڈرامائی طور پر کم کرنا ہے۔ ری سائیکل ہونے والی اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب ہر بڑی طاقت خلائی دوڑ میں اس طرح کے راکٹ تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے چین کی نجی کمپنی لینڈ اسپیس نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ کمپنی نے اپنے مدار میں جانے والے راکٹ کے پہلے مرحلے کو کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس بحفاظت اتار لیا ہے۔ اس بڑی کامیابی کا بنیادی مقصد خلائی سفر کے اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور خلائی پروازوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ ماضی میں خلائی راکٹ صرف ایک بار استعمال ہوتے تھے اور مدار میں سامان یا سیٹلائٹ پہنچانے کے بعد سمندر یا ویرانوں میں گر کر تباہ ہو جاتے تھے، جس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا تھا۔
اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ ری سائیکل ہونے والے راکٹوں کی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے سائنسی اداروں اور خلائی ایجنسیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک اب اس دوڑ میں شامل ہیں کیونکہ وہ بھی ایسے ہی دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ سسٹم تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راکٹ کے پہلے مرحلے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے سے نہ صرف مادی وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ خلائی مشنز کے درمیان کا وقفہ بھی کم ہو جاتا ہے، جس سے مستقبل میں تجارتی خلائی پروازوں کا خواب جلد شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے خلائی صنعت میں تجارتی مسابقت مزید تیز ہو جائے گی۔ نجی کمپنیوں کے لیے خلاء تک رسائی اب پہلے سے کہیں زیادہ سستی اور آسان ہو رہی ہے۔ لینڈ اسپیس کی اس تازہ ترین کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ خلائی تحقیق کے میدان میں چین ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور وہ امریکہ کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آنے والے برسوں میں ری سائیکل ہونے والے راکٹ خلائی معیشت کا مستقبل طے کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں گے، جس سے سیٹلائٹ کی ترسیل سے لے کر خلائی سیاحت تک کے منصوبوں کو فروغ ملے گا۔