Pakistan
سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی بانی کی طبی سہولیات اور شفا اسپتال منتقلی سے متعلق اپیل منظور کر لی
سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی چیمبر اپیل منظور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ تک رسائی سے متعلق درخواست پر باقاعدہ نمبر لگا کر جلد سماعت کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعہ کے روز سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی جانب سے دائر کردہ چیمبر اپیل کو منظور کرتے ہوئے کیس کو جلد از جلد کسی مناسب بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں استدعا کی تھی کہ انہیں علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ، قانونی مشیران اور ذاتی معالجین تک ان کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست کو اس بنیاد پر واپس کر دیا تھا کہ اس کے ساتھ دستخط شدہ پاور آف اٹارنی منسلک نہیں کی گئی تھی۔ جمعہ کے روز چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے چیمبر میں وکیل عزیر کرامت بھنڈاری نے اس کیس کی پیروی کی، جس کے بعد رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور وکیل کو ہدایت کی گئی کہ وہ دستخط شدہ پاور آف اٹارنی جمع کروائیں جبکہ رجسٹرار آفس کو مقدمے کا باقاعدہ نمبر الاٹ کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی گئی۔ چیمبر اپیل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رجسٹرار آفس کے پاس انتظامی اور طریقہ کار کے اختیارات ہوتے ہیں، اور کسی مقدمے کی قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ کرنا یا آئینی تشریح کا معاملہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے، اس لیے رجسٹرار کی جانب سے درخواست کو واپس کرنا اپنے اختیارات سے تجاوز ہے۔ اپیل میں یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ان کے پسندیدہ ڈاکٹروں بشمول ڈاکٹر خرم مرزا، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی سے کروایا جائے، اور ان کی قید کے دوران اہلِ خانہ اور وکلاء سے ملاقاتوں کے حقوق کو بحال کیا جائے۔ مزید برآں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ہمیشرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی دائر کردہ درخواست کو بھی اس مقدمے کے ساتھ شامل کر کے سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں ان کے بھائی کو شفا اسپتال منتقل کرنے اور ذاتی معالجین تک رسائی دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی 5 اگست 2023 سے قید ہیں اور اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی آنکھ کے عارضے اور دیگر طبی مسائل کے باعث ان کے علاج اور ذاتی معالجین تک رسائی کا معاملہ ملکی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر مسلسل سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔