Technology
ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت اور بڑی ٹیک کمپنیوں کا مستقبل
مشہور تجزیہ کار جم کریمر کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف سیاسی مخالفت نے بڑی ٹیک کمپنیوں کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے چھوٹے اور قیاس آرائی پر مبنی ڈویلپرز کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
مشہور مالیاتی مبصر اور ماہرِ معاشیات جم کریمر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعمیر اور اس کے خلاف پیدا ہونے والی سیاسی مخالفت نے بالآخر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں یعنی ہائپراسکیلرز کے لیے میدان ہموار کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں چھوٹے اور روایتی ڈویلپرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ بڑے پیمانے پر آنے والے ان ضابطہ کاری اور توانائی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی طلب نے ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کے قیام کے خلاف مقامی سطح پر تحفظات اور سیاسی مخالفت بھی بڑھ رہی ہے۔ جم کریمر کے مطابق، بڑی ٹیک کمپنیاں جیسے کہ مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمیزون اس بات کی صلاحیت رکھتی ہیں کہ وہ ان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے وسائل کی بنیاد پر طویل المدتی منصوبے جاری رکھ سکیں۔ اس کے برعکس، چھوٹے سرمایہ کار اور قیاس آرائی پر مبنی نئے منصوبے شروع کرنے والے ادارے ریگولیٹری دباؤ، ماحولیاتی خدشات اور بجلی کی فراہمی کے مسائل کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں گے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیٹا سینٹر مارکیٹ کا بیشتر حصہ چند بڑی کارپوریشنز کے قبضے میں چلا جائے گا، جو اس شعبے میں مزید اجارہ داری کا باعث بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے سخت ضابطے اور گرین انرجی کے تقاضے صرف وہی کمپنیاں پوری کر سکتی ہیں جن کے پاس سرمائے کی ریل پیل ہو۔ اس طرح کی پالیسیوں اور عوامی ردعمل کے باوجود، بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص اور ان کی مارکیٹ کی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑی کمپنیوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔