LIVE
Loading Breaking News...

چینی ہیکرز کا سائبر حملوں میں ڈیپ سیک کا استعمال

News Image
سکیورٹی محققین کے مطابق چینی ریاست سے وابستہ ہیکنگ گروپس نے بین الاقوامی اہداف پر سائبر حملوں کی رفتار بڑھا دی ہے۔ حملوں کو تیز کرنے کے لیے ڈیپ سیک سمیت مختلف اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ماہرینِ سکیورٹی نے انکشاف کیا ہے کہ چینی ہیکرز نے اپنے سائبر حملوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ریاست سے وابستہ سائبر گروپس نے مقبول ترین اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'ڈیپ سیک' اور دیگر ٹولز کو اپنے آپریشنز میں ضم کر لیا ہے، جس سے ان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور اب بین الاقوامی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین لیکن عام دستیاب بنیادی اے آئی ٹولز کا کس طرح مؤثر استعمال کر رہے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اے آئی ماڈلز کے استعمال سے ہیکرز کو اپنے حملوں کی منصوبہ بندی، کوڈنگ اور ہدف کی معلومات اکٹھی کرنے میں زبردست مدد مل رہی ہے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے حملے زیادہ تیزی سے اور پیچیدہ انداز میں کیے جا سکتے ہیں، جنہیں پکڑنا سکیورٹی اداروں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ چینی ہیکنگ گروپس کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کا یہ استعمال عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے شعبے میں شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر سکیورٹی کے ماہرین اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو کیسے روکا جائے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی رسائی آسان ہونے کی وجہ سے اب چھوٹے اور کم وسائل والے گروپس بھی خطرناک سائبر حملے کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اب تمام بڑے ٹیک اداروں اور حکومتوں کو مل کر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے خلاف سخت ضابطہ کار اور حفاظتی تدابیر وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔