LIVE
Loading Breaking News...

گارڈین ہیلتھ کو ڈی این اے پیٹنٹ تنازع میں بھاری جرمانہ

News Image
امریکہ کی ایک عدالت نے ٹوئن স্ট্রینڈ بائیو سائنسز اور واشنگٹن یونیورسٹی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے گارڈین ہیلتھ کو 245 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیٹنٹ کی خلاف ورزی کے ایک پرانے مقدمے میں جوری کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سنایا گیا ہے۔
امریکہ کی ایک عدالت نے معروف بائیو ٹیک کمپنی گارڈین ہیلتھ کو ٹوئن স্ট্রینڈ بائیو سائنسز اور واشنگٹن یونیورسٹی کو دو سو پینتالیس اعشاریہ دو ملین ڈالر (245.2 ملین ڈالر) ادا کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ عدالتی حکم نومبر 2023 کے اس جوری فیصلے کی توثیق کرتا ہے جس میں گارڈین ہیلتھ کو پیٹنٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ اس قانونی تنازع نے جینیاتی جانچ اور ڈی این اے سیکوینسنگ کی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ دونوں کمپنیاں کینسر کی تشخیص اور اسکریننگ کی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر کام کر رہی ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ گارڈین ہیلتھ نے بغیر اجازت کے ٹوئن স্ট্রینڈ اور واشنگٹن یونیورسٹی کی ملکیت شدہ پیٹنٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ جوری نے اپنے ابتدائی فیصلے میں مدعی فریق کے مؤقف کو درست تسلیم کیا تھا جس کے بعد اب عدالت نے جرمانے کی اس بڑی رقم کی ادائیگی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں دانشورانہ املاک (انٹلیکچوئل پراپرٹی) کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور مستقبل میں ایسی کمپنیوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ گارڈین ہیلتھ کی جانب سے اس عدالتی فیصلے پر ردعمل یا ممکنہ اپیل کے حوالے سے فی الحال تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم قانونی حلقوں میں اس مقدمے کے نتائج کو ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے ٹوئن স্ট্রینڈ بائیو سائنسز اور واشنگٹن یونیورسٹی کو اپنی سائنسی تحقیق اور بائیو ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے بڑی مالی پشت پناہی مل جائے گی۔