LIVE
Loading Breaking News...

انٹرپرائز اے آئی کا نفاذ اور چیلنجز، نئی تحقیق جاری

News Image
کمپ ٹیا کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق تنظیموں نے مصنوعی ذہانت کی آزمائش سے ہٹ کر اس کے عملی نفاذ پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔ اس عمل کے دوران افرادی قوت، گورننس اور ڈیٹا کی تیاری میں نمایاں خامیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
نئی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کاروباری اداروں اور تنظیموں نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ابتدائی آزمائشی یا تجرباتی مراحل سے آگے بڑھ کر اب اس کے حقیقی نفاذ اور تعیناتی پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔ دنیا بھر کے ادارے اب اے آئی کو اپنے روزمرہ کے کاروباری امور میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں تاکہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے اور مارکیٹ میں مسابقت کو برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، کمپ ٹیا (CompTIA) کی حالیہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس منتقلی کے دوران کئی طرح کے چیلنجز اور رکاوٹیں بھی سر اٹھا رہی ہیں۔ تقریباً دس میں سے چھ تنظیمیں اب اے آئی کی باضابطہ اور وسیع پیمانے پر انٹیگریشن کو ترجیح دے رہی ہیں، لیکن اس عمل کے دوران انہیں افرادی قوت کی تربیت، کارپوریٹ گورننس کے اصولوں اور ڈیٹا کی تیاری میں موجود خامیوں کا شدت سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خلاء اداروں کے لیے اس ٹیکنالوجی کے طویل مدتی فوائد حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بہت سے اداروں میں ماہر عملے کی کمی ہے جو جدید اے آئی سسٹمز کو مؤثر طریقے سے چلا سکیں یا ان کی نگرانی کر سکیں۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا کی درستگی، سیکیورٹی اور رازداری کے مسائل بھی سر فہرست ہیں۔ جب تک تنظیمیں ڈیٹا گورننس کے مضبوط فریم ورک تیار نہیں کرتیں اور اپنے ملازمین کو درکار مہارتوں سے لیس نہیں کرتی ہیں، تب تک اے آئی کے مکمل نفاذ کے اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔ کاروباری رہنماؤں اور تکنیکی ماہرین کے لیے یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ صرف اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے پر ہی زور نہ دیں بلکہ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بھی مستحکم کریں۔ اگرچہ یہ منتقلی مشکل ضرور ہے، لیکن مستقبل کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ادارے ان اندرونی خامیوں کو دور کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔