LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ویزا پابندی: ہزاروں تارکین وطن غیر یقینی کا شکار

News Image
امریکی انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن کے ویزا درخواستوں پر عارضی پابندی کے باعث دنیا بھر کے ہزاروں درخواست گزار شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس پالیسی اور عدالتی احکامات کے بعد پاکستانی شہریوں سمیت متاثرہ افراد کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکہ میں تارکین وطن کے ویزوں پر لگائی جانے والی عارضی پابندی کے نتیجے میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں درخواست گزار شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی حکام کی جانب سے سخت گیر پالیسیوں کے نفاذ اور سیکیورٹی خدات کے پیش نظر تارکین وطن کی ویزا درخواستوں اور اپائنٹمنٹس کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، جس سے طویل عرصے سے اپنے ویزے کے منتظر افراد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں خاندان قانونی طریقوں سے امریکہ منتقلی کے لیے تمام تر کارروائی مکمل کر چکے تھے اور اپنے انٹرویوز کے منتظر تھے۔ اس پالیسی کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں درخواست گزاروں کے اندر مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب، اس معاملے پر قانونی محاذ پر بھی کشمکش جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک امریکی جج نے اس سے قبل اس پالیسی کو چیلنج کرنے والے ایک مقدمے میں اس معطلی کے خلاف احکامات جاری کیے تھے جو پاکستان سمیت پچھتر ممالک کے شہریوں کو متاثر کر رہی تھی۔ عدالتی احکامات کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے ویزا کے عمل کو دوبارہ سے بحال کرنے اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے اب بھی ابہام پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ویزا کے حصول کے خواہشمند افراد دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ماہرین قانون اور امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اچانک پابندیوں سے نہ صرف قانونی امیگریشن کا نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ ان افراد کے بنیادی انسانی اور خاندانی حقوق بھی سلب ہوتے ہیں جو برسوں سے قطار میں کھڑے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے تاکہ ان کے تعطل کے شکار ویزا کیسز کو فوری طور پر نمٹایا جا سکے اور انہیں اس طویل ذہنی اذیت سے نجات مل سکے۔