LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور عمان: آبنائے ہرمز کا ٹرانزٹ روٹ اور دفاعی تیاریوں پر اہم بیان

News Image
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کا نیا ٹرانزٹ روٹ سات میل چوڑا رکھا جائے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
تہران: ایرانی حکام نے بین الاقوامی سمندری امور اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کا ٹرانزٹ روٹ سات میل چوڑا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں بحری آمدورفت کو مزید منظم بنانا اور بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں سے ایک ہے، اور اس نئی حد بندی سے سمندری ٹریفک کی نقل و حرکت میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی عسکری قیادت نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو انتہائی چوکنا رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی کمانڈرز کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کا دفاع کرنے کے لیے تمام یونٹس ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا گیا، تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتے ہیں۔ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے مزید واضح کیا ہے کہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا، جس سے امریکہ کے اہم مفادات براہ راست زد میں آ سکتے ہیں۔ ایران کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی امور میں کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے اور وہ خطے میں اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز جیسے حساس خطے میں اس قسم کے اقدامات اور بیانات خطے کی ارضیاتی اور عسکری صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔